مجھ کو تیرے عتاب نے مارا
یا مرے اضطراب نے مارا

بزمِ مے میں بس ایک میں محروم
آپ کے اجتناب نے مارا

خوں کیوں کر مرا کھلےکہ مجھے
ایک سراپا حجاب نے مارا

جبہ سائ کا بھی نہیں مقدور
ان کی عالی جناب نے مارا

لب مے گوں پہ جان دیتے ہیں
ہمیں شوقِ شراب نے مارا

کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیں
مجھے فکرِ جواب نے مارا

یوں کبھی نوجواں نہ مرتا میں
تیرے عہدِ شباب نے مارا

مومن

Advertisements

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گۓ
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب، سرِ رہگزار چلے گۓ

تری کج ادائ سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئ
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر مرے غم گسار چلے گۓ

نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم، نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے سب اختیار چلے گۓ

یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئ
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گۓ

نہ رہا جنونِ رخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گنہگار چلے گۓ

فیض احمد فیض

آج بازار میں پا بجولاں چلو

چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بجولاں چلو

دست افشاں چلو، مست و رقصاں چلو
خاک بر سر چلو، خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

حاکمِ شہر بھی، مجمعِ عام بھی
تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی
صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے
شہرِ جاناں میں اب با صفا کون ہے
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو

فیض احمد فیض

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گۓ

(ایتھل اور جولیس روزنبرگ کے خطوط سے متاثر ہو کر لکھی گئ)

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گۓ
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گۓ

سُولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

جب گُھلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلے آۓ، لاۓ جہاں تک قدم
لب پہ حرفِ غزل، دل میں قندیلِ غم
اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی
دیکھ قایٔم رے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گۓ

نارسائ اگر اپنی تقدیر تھی
تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے جا ملے

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے عَلم
اور نکلیں گے عُشّاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے

کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کے تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گۓ

فیض احمد فیض

یاد

دشتِ تنہائ میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں
تیری آواز کے ساۓ، ترے ہونٹوں کے سراب
دشتِ تنہائ میں، دوری کے خس و خاک تلے
کِھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خشبو میں سلگتی ہوئ مرہم مدہم
دور۔۔۔ افق پار، چمکتی ہوئ قطرہ قطرہ
گِر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم

اس قدر پیار سے، اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے، گرچہ ہے ابھی صبحِ فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن، آ بھی گئ وصل کی رات

فیض احمد فیض

نثار میں تری گلیوں کے۔۔۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئ نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئ چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کُشاد
کہ سنگ و خشت مقیّد ہیں اور سگ آزاد

بہت ہے ظلم کے دستِ بہانہ جُو کے لیے
جو چند اہلِ جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدّعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
ترے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں

بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئ ہوگی
چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پہ بکھر گئ ہوگی

غرض تصوّرِ شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفتِ سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں

(نا مکمل)

فیض احمد فیض

اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام
اب وہی دشمنِ دیں، راحتِ جاں ٹھری ہے

ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح
گفتگو آج سرِ کوۓ بتاں ٹھہری ہے

ہے وہی عارضِ لیلیٰ، وہی شیریں کا دہن
نگہِ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے

وصل کی شب تھی تو کس درجہ سُبک گزری ہے
ہجر کی رات ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے

بکھری اک بار تو ہاتھ آئ ہے کب موجِ شمیم
دل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے

دستِ صیّاد بھی عاجز ہے کفِ گُلچیں بھی
بوۓ گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے

آتے آتے یوں ہی دم بھر رکی ہوگی بہار
جاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے

ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے

فیض احمد فیض

رقیب سے

آ کہ وابستہ ہیں اُس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں تیرے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائ کے
جس کی اِن آنکھوں نے بے سُود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوایٔں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نُور
جس میں بیتی ہوئ راتوں کی کسک باقی ہے

تُو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصّور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئ ہوئ ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اِس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جُز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں


(نا مکمل)

فیض احمد فیض

دیدہِ تر پہ وہاں کون نظر کرتا ہے
کاسۂ چشم میں خوں نابِ جگر لے کے چلو
اب اگر جاؤ پۓ عرض و طلب ان کے حضور
دست و کشکول نہیں کاسۂ سر لے کے چلو

فیض احمد فیض