مجھ کو تیرے عتاب نے مارا
یا مرے اضطراب نے مارا

بزمِ مے میں بس ایک میں محروم
آپ کے اجتناب نے مارا

خوں کیوں کر مرا کھلےکہ مجھے
ایک سراپا حجاب نے مارا

جبہ سائ کا بھی نہیں مقدور
ان کی عالی جناب نے مارا

لب مے گوں پہ جان دیتے ہیں
ہمیں شوقِ شراب نے مارا

کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیں
مجھے فکرِ جواب نے مارا

یوں کبھی نوجواں نہ مرتا میں
تیرے عہدِ شباب نے مارا

مومن

Advertisements